اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق لاہور کے مقامی حکام کے مطابق دھماکہ بھاٹی گیٹ اور داتار دربار کے درمیان اردو بازار کے علاقے میں ہوا جہاں سے اربعین حسینی کے جلوس عزا کو گذرنا تھا۔ اب تک کی اطلاع کی مطابق تیرہ افراد جاں بحق ہوئے ہيں۔ بعض حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ دھماکہ سرکاری نمبر پلیٹ والی ایک سفید گاڑی میں ہوا۔ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے میں تیس سے زائد افراد زخمی ہوئے ہيں۔ اسپتال کے ذرائع نے بھی تیرہ افراد کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔متعدد زخمیوں کی حالت نازک ہے اور شہداء کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔حکام نے کہا ہے کہ یہ خود کش دھماکہ بھی ہوسکتا ہے۔لاہور ،اور کراچی میں بم دھماکوں 19 افراد شہید اور90 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق لاہور میں ہونے والے دھماکے میں تیرہ افراد شہید اور 80 سے زائد زخمی ہوئے ہیں جبکہ کراچی کے علاقے ملیر ہالٹ کے قریب پولیس موبائل کے قریب بم دھماکے میں دو افراد جاں بحق جبکہ 12زخمی ہو گئے۔ لاہور میں ہونے والے دھماکے میں چار پولیس اہلکاروں سمیت 15 افراد جاں بحق اور80 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ایس پی سیکیورٹی فیصل رانا کے مطابق اردو بازار چوک میں الف شاہ حویلی سے آنے والے چہلم کے جلوس کے راستے میں انٹری پوائنٹ پر بارود سے بھرا بیگ پھینکا اور پھر خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں چار پولیس اہلکاروں سمیت 13 افراد جاں بحق اور 80زخمی ہوگئے ہیں۔زخمیوں کو میو ہسپتال اور گنگا رام ہسپتال منتقل کیا گیا اور دونوں ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ زخمیوں میں عورتوں اور بچوں کی کثیر تعداد بھی شامل ہے۔سی سی پی او لاہور اسلم ترین نے اس حملے کو قطعی خودکش حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خود کش حملہ آور کی عمر تیرہ سے چودہ سال تھی اور زخمیوں میں کوئی بھی شخص نازک حالت میں نہیں ہے۔ دھماکے کے بعد لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی۔دھماکے سے متعدد گاڑیاں تباہ ہوگئی ہیں۔دہشت گردوں سے قریبی تعلقات کے حوالے سے مورد الزام وزیر قانون راناثناءاللہ کا کہناہے کہ چہلم کے جلوس کے موقع پردہشت گردی کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے تھے جس کے باعث دہشت گرد کو پہلے بیرئیر پر روک لیا گیا اور دھماکے کے نتیجے میں عزاداران کسی ممکنہ بڑے نقصان سے محفوظ رہے۔ان کا کہنا تھا کہ جائے حادثہ سے پولیس نے ایک مشکوک شخص کو پکڑ کرتفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیاگیاہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ یہ مشکوک شخص بھی معمول کے مطابق رہا کردیا جائے گا۔دوسری جانب کراچی کے علاقے ملیر 15کے قریب حضرت امام حسین کے چہلم کے جلوس کی گزر گاہ پر دھماکہ ہوا ہے۔ ڈی آئی جی ایسٹ کے مطابق جلوس کے گذرنے کے تھوڑی دیر بعد ہی پولیس کی موبائل کے قریب دھماکہ ہوگیا جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار اور ایک نامعلوم شخص سمیت تین افراد جاں بحق اور پولیس اہلکاروں سمیت 12افراد زخمی ہوگئے جن میں ایک خاتوں اور بچہ بھی شامل ہیں۔ خیال کیا جارہا ہے ہلاک ہونے والوں میں ایک حملہ آور بھی ہی شامل ہے۔کراچی سے ہی عالمی اخبار کے نامہ نگار محمد عظیم اعظم عظیم نے اپنے مراسلے میں لکھا ہے کہ ملیر شاہراہ فیصل پر ہونے والے خودکش حملے میں 4 پولیس اہلکار جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں حافظ کاشف، عمران ولد سعید اکبر، دلفراز ولد زرداد جبکہ ایک اہلکار کی شناخت نہیں ہوسکی، لاشوں کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ پولیس موبائل میں ہوا اور زخمیوں میں زیادہ تعداد پولیس اہلکاروں کی ہے جبکہ پولیس کے مطابق موٹر سائیکل سوار نے اپنی موٹر سائیکل پولیس وین سے ٹکرائی، جس سے وین میں سوار 4 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ ایس پی سیکورٹی رانا فیصل نے بھی اسے خودکش دھماکہ قرار دیا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر لاہور اور کراچی میں تین دھماکے ہوئے ہیں جن میں اب تک مجموعی طور پر 16 افراد شہید ہوئے ہیں اور شہید ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق عینی شاہدین کے مطابق ایک خود کش حملہ آور نے جلوس میں اندر داخل ہونے کی کوشش کی تاہم اسے روکنے کی کوشش کی گئی تو اس نے خود کو اڑا دیا دوسری جانب بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکا ایک سرکاری گاڑی میں نصب بم پھٹنے سے ہوا۔ ایک بالکل مختلف رپورٹ کے مطابق کراچی دھماکہ خودکش نہیں بلکہ نصب شدہ بم پھٹنے سے ہوا جبکہ مذکورہ بالا رپورٹوں کے ضمن میں بھی کہا گیا ہے کہ پم پولیس وین میں نصب کیا گیا تھا!۔اطلاعات کے مطابق پاکستان کے صوبے سندھ کے صوبائی مرکز کراچی کے ایک علاقے ملیر میں ہونے والا دھماکہ خودکش نہیں بلکہ "موٹر سائیکل میں نصب" مواد پھٹنے سے ہوا۔اطلاعات کے مطابق آئی جی سندھ صلاح الدین بابر خٹک کا کہنا ہے کہ ملیر دھماکہ خود کش نہیں بلکہ موٹر سائیکل میں نصب دھماکا خیز مواد پھنٹے سے ہوا، ان کا کہنا تھاکہ دھماکے کی جگہ سے ملنے والا سر پولیس ایک اہل کار کامران قریشی کا ہے۔ کل سہ پہر کو آنلائن ہونے والی جنگ رپورٹ ملاحظہ ہو:لاہور: چہلم امام حسین علیہ السلام کا جلوس جاری، سخت ترین سکیورٹی انتظامات Updated at 1520 PST لاہور…لاہور میں شہدائے کربلا اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے چہلم کا مرکزی جلوس اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا منزل کی جانب گامزن ہے،اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔چہلم کا مرکزی جلوس حویلی الف شاہ دہلی گیٹ سے صبح نو بجے برآمد ہوا جو دہلی گیٹ اور موچی گیٹ کے علاقوں سے ہوتا ہوا مسجد وزیر خان، کشمیری بازار، رنگ محل پانی والا تالاب، ٹیکسالی گیٹ اور اندرون بھاٹی سے ہوتا ہوا بعد نماز عشا کربلا گامے شاہ پہنچے گا۔ جلوس میں علم اور تعزیئے شامل ہیں اور عزدار نوحہ خوانی اور زنجیر زنی کر رہے ہیں۔ شرکا نے مسجد وزیرخان کے قریب نماز ظہرین ادا کی۔جلوس کے راستوں کی فضائی نگرانی ہیلی کاپٹر کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ ڈھائی ہزار پولیس اہلکاراور سیکڑوں رضاکار چاق و چوبند فرائض انجام دے رہے ہیں جبکہ عزا داروں کو چار سکیورٹی ناکوں اور واک تھرو گیٹس سے گزارا جا رہا ہے۔چہلم کے مرکزی جلوس کے راستے میں جگہ جگہ لنگر اور سبیلوں کا اہتمام کیا گیا۔حضرت امام حسین علیہ السلام کے چہلم کا مرکزی جلوس سخت حفاظتی انتظامات میں مقررہ راستوں پر رواں دواں ہے۔جلوس آج رات گئے کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوگا۔لاہورمیں شہدائے کربلا اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے چہلم کے مرکزی جلوس کی حفاظت کیلئے ڈھائی ہزار پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ دو ایس پی، انیس ڈی ایس پی اور پولیس کے چالیس انسپکٹر جلوس کے ساتھ ڈیوٹی دے رہے ہیں۔ ایلیٹ فورس کی دس گاڑیاں جلوس کے ساتھ اور دو ہیلی کاپٹر فضائی نگرانی پر مامور ہیں۔ جلوس کے راستوں میں کلوز سرکٹ کیمرے اور عمارتوں پر ماہر نشانہ باز تعینات ہیں۔ .........اب سوال یہ ہے کہ اتنے شدید انتظامات کے باوجود دہشت گرد کیونکر اپنے مذموم ارادوں میں کامیاب ہوئے؟
۔۔۔۔۔۔
/110